How to install STATA

Advertisements

10 Tips for Statement of Purpose

Writing a successful statement of purpose is really very essential part of applying for any scholarship or admission. Expert says as it weighs 30% in your evaluation for admission, therefore, at least 30% of the total time behind an application should be given to writing a high-quality statement of purpose (SoP). SoP is everything about you which you could not mention in Resume or other documents.

Following are few tips to a successful SoP

  1. Brainstorm Start from brainstorming about yourself, jot down on a page or note on your iPhone, preferably before you sleep. Do this for 3-4 days, then write all and then squeeze them to one page.
  2. Mention Supervisor Not always, but in some cases, if university allows, you may check faculty for their area of interest and list of publications. In your SoP, you may mention why did you choose a certain supervisor, and you may mention her/his publication name which inspired you the most.
  3. Get SoP checked by this I do not mean you should check your SoP yourself. Get someone else proofread your SoP and improves its sentence structure and grammar. Usually, a SoP enables the university to rate you on how well are you in articulating your thoughts and express yourself.
  4. Be Positive Don’t be negative while writing your SoP, try to be positive.
  5. Excitement and Reason In the starting paragraph show your excitement for the subject and reason to choose this subject.
  6. Evidence In the second paragraph try to convince the evaluator with evidence that you are excited to get admission, you are capable of getting this admission.
  7. The Personal Touch In the last paragraph, try to add few lines about your personal self. This is the most important part of your SoP. After all, SoP is about yourself and future plan not about your past achievements only which are already mentioned in your Resume.
  8. Plain English The most import thing, do not use complex English, it is all about expressing your thoughts for evaluation, do not hinder it with using complex English. Rather use simple and plain English and convey your thoughts clearly.
  9. Done lie Tell them what really are you, don’t tell any lie.
  10. Highlighting a course Highlight a course which this university is offering may attract the evaluator to your admission or scholarship application. If the university is offering a course say ‘Economics of startups’ and by highlighting this course in your SoP will give good points to your application. Because this will be a reason for the evaluator to believe that their university and department worth something in your future plan.

 

Joseph Stiglitz on homeless workers in USA

آج کا مسلمان مکہ مدینہ جانے سے زیادہ خواہش امریکہ جانے کی کرتا ہے۔ کچھ لوگ امریکی کلچر سے متاثر ہیں اس لئے امریکہ کے ویزا کو دنیا کے تمام ممالک پر فوقیت دیتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ایک دوسرا گروہ بھی ہے، جو زیادہ آمدن کے لئے امریکہ کو جنت سمجھتا ہے، ان کو لگتا ہےکہ امریکہ میں جاتے ہی دولت آسمان سے برسے گی۔ امریکہ کی نالیوں میں گندہ پانی نہیں بلکہ ڈالر بہتے ہیں۔

امریکہ میں مزدوری کرنے والے افراد کو اساڑھے سات ڈالر اُجرت فی گھنٹہ دی جاتی ہے، جو کہ امریکی کم سے کم اُجرت کے قانون کے مطابق ہے۔ حال ہی میں امریکہ ادارے NLIHCسے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اُجرت دو کمروں کے مکان کا خرچ اٹھانے کے قابل نہیں۔یہ تنخواہ تقریباً سب ہی امریکی ریاستوں میں 40 گھنٹےفی ہفتہ کام کرنے والے افراد کے لئے دو کمرے کے مکان کی متحمل نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کم از کم $21.21 فی گھنٹہ کی اُجرت دو کمروں کے مکان کے خرچ اُٹھانے کے لئے درکار ہے۔ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق گھر کا کرایہ یا قسط بمع یوٹیلٹی بلز کل آمد ن کا 30 فی صد سے زیادہ نہیں ہونا چائیے۔ اب ایک شخص کو ہفتہ میں کم از کم 94 گھنٹے کام کرناہو گا تب جا کر وہ 7.5 ڈالرکی کم آمدن پر رہتے ہوئے دو کمروں کے مکان کا خرچ اُٹھا سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں ایک محنت کش کو روزانہ `13 گھنٹے کام کرنا ہوگا، اب اگر وہ اتوار کی چھٹی بھی نہ کرے پھر جا کر کہیں وہ ایک گھر کا خرچ چلا سکے گا۔ اب دوسری جانب وقت کی تقسیم کا بحران ہے، ایک آدمی 13 گھنٹے کی ڈیوٹی کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ 3-4 گھنٹے روزانہ سفر میں گزارے گا۔ امریکہ میں کام اور سستی رہائش کے درمیان 3-4 گھنٹے روزانہ سفر معمولی بات ہے۔

2012 میں امریکی نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف سٹگلٹز نے اپنی کتاب the price of inequality میں اس مسئلہ پر تفصیل سے لکھا ہے۔ مصنف کے مطابق امریکہ میں غیر ہنر مند مزدور تین ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر دن گزار رہا ہے۔ مصنف نے یہ تخمینہ آٹھ گھنٹے کام کرنے والے مزدور کی لئے لگایا ہے ، جو آٹھ ڈالر فی گھنٹہ پر کام کرتا ہے، اور ٹیکس، انشورنس اور سفری خرچ کے اخراجات کے بعد اس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے صرف تین ڈالر یومیہ باقی بچتے ہیں۔ مصنف نے اس مسلئے پر گریہ کے انداز میں لکھا ہے کہ ’ہمارے ملک میں خالی گھر بھی ہیں اور بے گھر افراد بھی‘ـ مصنف نے حقیقی معنوں میں اس گرتی ہو اُجرت کی وجہ بھڑتے ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو قرار دیا ہے۔ جیسے جیسے کام کاج میں انسان کی جگہ ٹیکنالوجی لے رہی ہے مزدور کی طلب کم ہورہی ہے۔مزدور کی گھٹتی ہوئی طلب نے اس کی حقیقی اجرت کو بدستور کم کر رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا توآنے والے وقت میں غیر ہنر مند مزدوروں کا امریکہ میں گزارا ناممکن ہو جائے گا۔آج کا مسلمان مکہ مدینہ جانے سے زیادہ خواہش امریکہ جانے کی کرتا ہے۔ کچھ لوگ امریکی کلچر سے متاثر ہیں اس لئے امریکہ کے ویزا کو دنیا کے تمام ممالک پر فوقیت دیتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ایک دوسرا گروہ بھی ہے، جو زیادہ آمدن کے لئے امریکہ کو جنت سمجھتا ہے، ان کو لگتا ہےکہ امریکہ میں جاتے ہی دولت آسمان سے برسے گی۔ امریکہ کی نالیوں میں گندہ پانی نہیں بلکہ ڈالر بہتے ہیں۔

امریکہ میں مزدوری کرنے والے افراد کو اساڑھے سات ڈالر اُجرت فی گھنٹہ دی جاتی ہے، جو کہ امریکی کم سے کم اُجرت کے قانون کے مطابق ہے۔ حال ہی میں امریکہ ادارے NLIHCسے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اُجرت دو کمروں کے مکان کا خرچ اٹھانے کے قابل نہیں۔یہ تنخواہ تقریباً سب ہی امریکی ریاستوں میں 40 گھنٹےفی ہفتہ کام کرنے والے افراد کے لئے دو کمرے کے مکان کی متحمل نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کم از کم $21.21 فی گھنٹہ کی اُجرت دو کمروں کے مکان کے خرچ اُٹھانے کے لئے درکار ہے۔ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق گھر کا کرایہ یا قسط بمع یوٹیلٹی بلز کل آمد ن کا 30 فی صد سے زیادہ نہیں ہونا چائیے۔ اب ایک شخص کو ہفتہ میں کم از کم 94 گھنٹے کام کرناہو گا تب جا کر وہ 7.5 ڈالرکی کم آمدن پر رہتے ہوئے دو کمروں کے مکان کا خرچ اُٹھا سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں ایک محنت کش کو روزانہ `13 گھنٹے کام کرنا ہوگا، اب اگر وہ اتوار کی چھٹی بھی نہ کرے پھر جا کر کہیں وہ ایک گھر کا خرچ چلا سکے گا۔ اب دوسری جانب وقت کی تقسیم کا بحران ہے، ایک آدمی 13 گھنٹے کی ڈیوٹی کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ 3-4 گھنٹے روزانہ سفر میں گزارے گا۔ امریکہ میں کام اور سستی رہائش کے درمیان 3-4 گھنٹے روزانہ سفر معمولی بات ہے۔

2012 میں امریکی نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف سٹگلٹز نے اپنی کتاب the price of inequality میں اس مسئلہ پر تفصیل سے لکھا ہے۔ مصنف کے مطابق امریکہ میں غیر ہنر مند مزدور تین ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر دن گزار رہا ہے۔ مصنف نے یہ تخمینہ آٹھ گھنٹے کام کرنے والے مزدور کی لئے لگایا ہے ، جو آٹھ ڈالر فی گھنٹہ پر کام کرتا ہے، اور ٹیکس، انشورنس اور سفری خرچ کے اخراجات کے بعد اس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے صرف تین ڈالر یومیہ باقی بچتے ہیں۔ مصنف نے اس مسلئے پر گریہ کے انداز میں لکھا ہے کہ ’ہمارے ملک میں خالی گھر بھی ہیں اور بے گھر افراد بھی‘ـ مصنف نے حقیقی معنوں میں اس گرتی ہو اُجرت کی وجہ بھڑتے ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو قرار دیا ہے۔ جیسے جیسے کام کاج میں انسان کی جگہ ٹیکنالوجی لے رہی ہے مزدور کی طلب کم ہورہی ہے۔مزدور کی گھٹتی ہوئی طلب نے اس کی حقیقی اجرت کو بدستور کم کر رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا توآنے والے وقت میں غیر ہنر مند مزدوروں کا امریکہ میں گزارا ناممکن ہو جائے گا۔

On Liberty & Mill

John Stuart Mill 1806 -1873 was an English philosopher, political economist and member of parliament. One of the most influential thinkers in the history of western liberalism, he contributed widely to social theory, political theory and political economy. He was widely acknowledge to promote the thought, that government (formal institutions) must have some limits to intervene in individuals liberty. He coined the term legitimate government intervention. He started this debate that in self-regarding actions, govt. should not intervene because this is against individual liberty, for instance, alcohol consumption. Government is only allowed to intervene in other-regarding actions, for example driving after consuming alcohol. He declared that Govt is not justified to intervene in those matters which create harm for a person by himself like alcohol consumption in bedroom or bar. To, legitimize his theory of liberty, he formulated a very strong ethical theory Utilitarianism, which gives a new wider and liberal principle to distinguish between right and wrong. The core of ethics is ‘how to distinguish between right and wrong. Mill put forward a new ethical theory while Divine command theory, Kantianism and Aristotelian ethics are already prevailing. According to his Utilitarianism philosophy ‘every action is right if it brings no harm to other’ his philosophical narrative states that, good action is that which brings greatest good for greatest number of people. Therefore, he promoted the idea of liberty further by saying it the greatest good that benefits the greatest number of people. He philosophy promoted liberty in all domains of personal life. He was the first to promote feminist right in parliament of UK and raised voice for subjection of women and right to vote. He said, women should be free, enjoying as much as liberty as men do. J. S. Mill was inspired by Adam Smith, free market idea for efficiency, he brought his philosophy to sociological side. By saying, the height of human civilization – French revolution, as a bi-product of liberty, therefore, for further progress of human civilization, more liberty should be awarded to common masses by the govt, and the starting point should be women, which is most vulnerable in terms of liberty. His writings were so influential, that Utilitarianism has influenced nearly all aspect of govt laws that deal with sociology. New law making under his influence, gave more liberty to society, starting from women. This changed the norms and in-formal institutions of west.