Joseph Stiglitz on homeless workers in USA

آج کا مسلمان مکہ مدینہ جانے سے زیادہ خواہش امریکہ جانے کی کرتا ہے۔ کچھ لوگ امریکی کلچر سے متاثر ہیں اس لئے امریکہ کے ویزا کو دنیا کے تمام ممالک پر فوقیت دیتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ایک دوسرا گروہ بھی ہے، جو زیادہ آمدن کے لئے امریکہ کو جنت سمجھتا ہے، ان کو لگتا ہےکہ امریکہ میں جاتے ہی دولت آسمان سے برسے گی۔ امریکہ کی نالیوں میں گندہ پانی نہیں بلکہ ڈالر بہتے ہیں۔

امریکہ میں مزدوری کرنے والے افراد کو اساڑھے سات ڈالر اُجرت فی گھنٹہ دی جاتی ہے، جو کہ امریکی کم سے کم اُجرت کے قانون کے مطابق ہے۔ حال ہی میں امریکہ ادارے NLIHCسے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اُجرت دو کمروں کے مکان کا خرچ اٹھانے کے قابل نہیں۔یہ تنخواہ تقریباً سب ہی امریکی ریاستوں میں 40 گھنٹےفی ہفتہ کام کرنے والے افراد کے لئے دو کمرے کے مکان کی متحمل نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کم از کم $21.21 فی گھنٹہ کی اُجرت دو کمروں کے مکان کے خرچ اُٹھانے کے لئے درکار ہے۔ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق گھر کا کرایہ یا قسط بمع یوٹیلٹی بلز کل آمد ن کا 30 فی صد سے زیادہ نہیں ہونا چائیے۔ اب ایک شخص کو ہفتہ میں کم از کم 94 گھنٹے کام کرناہو گا تب جا کر وہ 7.5 ڈالرکی کم آمدن پر رہتے ہوئے دو کمروں کے مکان کا خرچ اُٹھا سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں ایک محنت کش کو روزانہ `13 گھنٹے کام کرنا ہوگا، اب اگر وہ اتوار کی چھٹی بھی نہ کرے پھر جا کر کہیں وہ ایک گھر کا خرچ چلا سکے گا۔ اب دوسری جانب وقت کی تقسیم کا بحران ہے، ایک آدمی 13 گھنٹے کی ڈیوٹی کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ 3-4 گھنٹے روزانہ سفر میں گزارے گا۔ امریکہ میں کام اور سستی رہائش کے درمیان 3-4 گھنٹے روزانہ سفر معمولی بات ہے۔

2012 میں امریکی نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف سٹگلٹز نے اپنی کتاب the price of inequality میں اس مسئلہ پر تفصیل سے لکھا ہے۔ مصنف کے مطابق امریکہ میں غیر ہنر مند مزدور تین ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر دن گزار رہا ہے۔ مصنف نے یہ تخمینہ آٹھ گھنٹے کام کرنے والے مزدور کی لئے لگایا ہے ، جو آٹھ ڈالر فی گھنٹہ پر کام کرتا ہے، اور ٹیکس، انشورنس اور سفری خرچ کے اخراجات کے بعد اس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے صرف تین ڈالر یومیہ باقی بچتے ہیں۔ مصنف نے اس مسلئے پر گریہ کے انداز میں لکھا ہے کہ ’ہمارے ملک میں خالی گھر بھی ہیں اور بے گھر افراد بھی‘ـ مصنف نے حقیقی معنوں میں اس گرتی ہو اُجرت کی وجہ بھڑتے ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو قرار دیا ہے۔ جیسے جیسے کام کاج میں انسان کی جگہ ٹیکنالوجی لے رہی ہے مزدور کی طلب کم ہورہی ہے۔مزدور کی گھٹتی ہوئی طلب نے اس کی حقیقی اجرت کو بدستور کم کر رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا توآنے والے وقت میں غیر ہنر مند مزدوروں کا امریکہ میں گزارا ناممکن ہو جائے گا۔آج کا مسلمان مکہ مدینہ جانے سے زیادہ خواہش امریکہ جانے کی کرتا ہے۔ کچھ لوگ امریکی کلچر سے متاثر ہیں اس لئے امریکہ کے ویزا کو دنیا کے تمام ممالک پر فوقیت دیتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ایک دوسرا گروہ بھی ہے، جو زیادہ آمدن کے لئے امریکہ کو جنت سمجھتا ہے، ان کو لگتا ہےکہ امریکہ میں جاتے ہی دولت آسمان سے برسے گی۔ امریکہ کی نالیوں میں گندہ پانی نہیں بلکہ ڈالر بہتے ہیں۔

امریکہ میں مزدوری کرنے والے افراد کو اساڑھے سات ڈالر اُجرت فی گھنٹہ دی جاتی ہے، جو کہ امریکی کم سے کم اُجرت کے قانون کے مطابق ہے۔ حال ہی میں امریکہ ادارے NLIHCسے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اُجرت دو کمروں کے مکان کا خرچ اٹھانے کے قابل نہیں۔یہ تنخواہ تقریباً سب ہی امریکی ریاستوں میں 40 گھنٹےفی ہفتہ کام کرنے والے افراد کے لئے دو کمرے کے مکان کی متحمل نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کم از کم $21.21 فی گھنٹہ کی اُجرت دو کمروں کے مکان کے خرچ اُٹھانے کے لئے درکار ہے۔ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق گھر کا کرایہ یا قسط بمع یوٹیلٹی بلز کل آمد ن کا 30 فی صد سے زیادہ نہیں ہونا چائیے۔ اب ایک شخص کو ہفتہ میں کم از کم 94 گھنٹے کام کرناہو گا تب جا کر وہ 7.5 ڈالرکی کم آمدن پر رہتے ہوئے دو کمروں کے مکان کا خرچ اُٹھا سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں ایک محنت کش کو روزانہ `13 گھنٹے کام کرنا ہوگا، اب اگر وہ اتوار کی چھٹی بھی نہ کرے پھر جا کر کہیں وہ ایک گھر کا خرچ چلا سکے گا۔ اب دوسری جانب وقت کی تقسیم کا بحران ہے، ایک آدمی 13 گھنٹے کی ڈیوٹی کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ 3-4 گھنٹے روزانہ سفر میں گزارے گا۔ امریکہ میں کام اور سستی رہائش کے درمیان 3-4 گھنٹے روزانہ سفر معمولی بات ہے۔

2012 میں امریکی نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف سٹگلٹز نے اپنی کتاب the price of inequality میں اس مسئلہ پر تفصیل سے لکھا ہے۔ مصنف کے مطابق امریکہ میں غیر ہنر مند مزدور تین ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر دن گزار رہا ہے۔ مصنف نے یہ تخمینہ آٹھ گھنٹے کام کرنے والے مزدور کی لئے لگایا ہے ، جو آٹھ ڈالر فی گھنٹہ پر کام کرتا ہے، اور ٹیکس، انشورنس اور سفری خرچ کے اخراجات کے بعد اس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے صرف تین ڈالر یومیہ باقی بچتے ہیں۔ مصنف نے اس مسلئے پر گریہ کے انداز میں لکھا ہے کہ ’ہمارے ملک میں خالی گھر بھی ہیں اور بے گھر افراد بھی‘ـ مصنف نے حقیقی معنوں میں اس گرتی ہو اُجرت کی وجہ بھڑتے ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو قرار دیا ہے۔ جیسے جیسے کام کاج میں انسان کی جگہ ٹیکنالوجی لے رہی ہے مزدور کی طلب کم ہورہی ہے۔مزدور کی گھٹتی ہوئی طلب نے اس کی حقیقی اجرت کو بدستور کم کر رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا توآنے والے وقت میں غیر ہنر مند مزدوروں کا امریکہ میں گزارا ناممکن ہو جائے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s